رومیوں

باب: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16


باب 1

1 پَولُس کی طرف سے جو یِسُوع مسِیح کا بندہ ہے اور رَسُول ہونے کے لِئے بُلایا گیا اور خُدا کی اُس خُوشخَبری کے لِئے مخصُوص کِیا گیا ہے۔
2 جِس کا اُس نے پیشتر سے اپنے نبِیوں کی معرفت کِتابِ مُقدّس میں۔
3 اپنے بَیٹے ہمارے خُداوند یِسُوع مسِیح کی نِسبت وعدہ کِیا تھا جو جسم کے اِعتبار سے داؤد کی نسل سے پَیدا ہُؤا۔
4 لیکِن پاکِیزگی کی رُوح کے اِعتبار سے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے سبب سے قُدرت کے سبب سے قُدرت کے ساتھ خُدا کا بَیٹا ٹھہرا۔
5 جِس کی کی معرفت ہم کو فضل اور رسالت مِلی تاکہ اُس کے نام کی خاطِر سب قَوموں میں سے لوگ اِیمان کے تابِع ہوں۔
6 جِن میں سے تُم بھی یِسُوع مسِیح کے ہونے کے لِئے بُلائے گئے ہو۔
7 اُن سب کے نام جو رومہ میں خُدا کے پیارے ہیں اور مُقدّس ہونے کے لِئے بُلائے گئے ہیں۔ ہمارے باپ خُدا اور خُداوند یِسُوع مسِیح کی طرف سے تُمہیں فضل اور اِطمینان حاصِل ہوتا رہے۔
8 اوّل تو مَیں تُم سب کے بارے میں یِسُوع مسِیح کے وسِیلہ سے اپنے خُدا کا شُکر کرتا ہُوں کہ تُمہارے اِیمان کا تمام دُنیا میں شُہرہ ہورہا ہے۔
9 چُنانچہ خُدا جِس کی عِبادت مَیں اپنی رُوح سے اُس کے بَیٹے کی خُوشخَبری دینے میں کرتا ہُوں وُہی میرا گواہ ہے کہ مَیں بِلا ناغہ تُمہیں یاد کرتا ہُوں۔
10 اور اپنی دُعاؤں میں ہمیشہ یہ دَرخواست کرتا ہُوں کِہ اَب آخر کار خُدا کی مرضی سے مُجھے تُمہارے پاس آنے میں کِسی طرح کی کامیابی ہو۔
11 کِیُونکہ مَیں تُمہاری مُلاقات کا مُشتاق ہُوں تاکہ تُم کو کوئی رُوحانی نِعمت دُوں جِس سے تُم مضبُوط ہوجاؤ۔
12 غرض مَیں بھی تُمہارے درمیان ہوکر تُمہارے ساتھ اُس اِیمان کے باعِث تسلّی پاؤں جو تُم میں اور مُجھ میں دونوں میں ہے۔
13 اور اَے بھائِیو! مَیں اِس سے تُمہارا ناواقِف رہنا نہِیں چاہتا کہ مَیں نے بارہا تُمہارے پاس آنے کا اِرادہ کِیا تاکہ جَیسا مُجھے اَور غَیر قَوموں میں پھَل مِلا وَیسا ہی تُم میں بھی مِلے مگر آج تک رُکا رہا۔
14 مَیں یُونانِیوں اور غَیر یُونانِیوں۔ داناؤں اور نادانوں کا قرضدار ہُوں۔
15 پَس مَیں تُم کو بھی جو رومہ میں ہو خُوشخَبری سُنانے کو حتّٰی امقدُور تیّار ہُوں۔
16 کِیُونکہ مَیں اِنجیل سے شرماتا نہِیں۔ اِس لِئے کہ وہ ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے پہلے یہُودی پھِر یُونانی کے واسطے نِجات کے لئِے خُدا کی قُدرت ہے۔
17 اِس واسطے کہ اُس میں خُدا کی راستبازی اِیمان سے اور اِیمان کے لِئے ظاہِر ہوتی ہے جَیسا لِکھّا ہے راست باز اِیمان سے جِیتا رہے گا۔
18 کِیُونکہ خُدا کا غضب اُن آدمِیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہِر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔
19 کِیُونکہ جو کُچھ خُدا کی نسِبت معلُوم ہو سکتا ہے وہ اُن کے باطِن میں ظاہِر ہے۔ اِس لِئے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہِر کردِیا۔
20 کِیُونکہ اُس کی اَن دیکھی صِفتیں یعنی اُس کی ازلی قُدُرت اور الُوہِیت دُنیا کی پَیدائیش کے وقت سے بنائی ہُوئی چِیزوں کے زرِیعہ سے معلُوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کو کُچھ عُزر باقی نہِیں۔
21 اِس لِئے کہ اگرچہ اُنہوں نے نے خُدا کو جان تو لِیا مگر اُس کی خُدائی کے لائِق اُس کی تمجِید اور شُکر گُزاری نہ کی بلکہ باطِل خیالات میں پڑگئے اور اُن کے بے سَمَجھ دِلوں پر اَندھیرا چھاگیا۔
22 وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بیوُقُوف بن گئے۔
23 اور غَیر فانی خُدا کے جلال کو فانی اِنسان اور پرِندوں اور چَوپایوں اور کِیڑے مکَوڑوں کی صُورت میں بدل ڈالا۔
24 اِس واسطے خُدا نے اُن کے دِلوں کی خواہِشوں کے مُطابِق اُنہِیں ناپاکی میں چھوڑ دِیا کہ اُن کے بَدَن آپس میں بے حُرمت کِئے جائیں۔
25 اِس لِئے کہ اُنہوں نے نے خُدا کی سَچّائی کو بدل کر جھُوٹ بنا ڈالا اور مخلُوقات کی زیادہ پرستِش اور عِبادت کی بہ نسِبت اُس خالِق کے جوابد تک محمُود ہے۔ آمین۔
26 اِسی سبب سے خُدا نے اُن کو گندی شہوتوں میں چھوڑدِیا۔ یہاں تک کہ اُن کی عَورتوں نے اپنے طبعی کام کو خِلاف طِبع کام سے بدل ڈالا۔
27 اِسی طرح مرد بھی عَورتوں سے طبعی کام چھور کر آپس کی شہوت سے مست ہوگئے یعنی مردوں نے مردوں کے ساتھ رُوسیاہی کے کام کر کے اپنے آپ میں اپنی گُمراہی کے لائِق بدلہ پایا۔
28 اور جِس طرح اُنہوں نے خُدا کو پہچاننا نا پسند کِیا اُسی طرح خُدا نے بھی اُن کو نا پسندِیدہ عقل کے حوالہ کردِیا کہ نالائِق حرکتیں کریں۔
29 پَس وہ ہر طرح کی ناراستی بدی لالچ اور بد خواہی سے بھر گئے اور حسد خُونریزی جھگڑے مکّاری اور بغُض سے معمُور ہوگئے اور غِیبت کرنے والے۔
30 بدگو۔ خُدا کی نظر میں نفرتی اَوروں کو بے عِّزت کرنے والے مغرُور شیخی باز بدیوں کے بانی ماں باپ کے نافرمان۔
31 بیُوقُوف عہد شکن طبعی محبّت سے خالی اور بیرحم ہوگئے۔
32 حالانکہ وہ خُدا کا یہ حُکم جانتے ہیں کہ اَیسے کام کرنے والے مَوت کی سزا کے لائِق ہیں۔ پھِر بھی نہ فقط آپ ہی اَیسے کام کرتے ہیں بلکہ اَور کرنے والوں سے بھی خُوش ہوتے ہیں۔